بنگلورو،3؍جنوری(ایس او نیوز) سینئر کانگریس لیڈر اور رکن کونسل ایوان ڈیسوزا نے ریاست کے معروف قومی بینک وجئے بینک کو بینک آف بر وڈہ میں ضم کرنے مرکزی حکومت کے فیصلے کی مخالفت کی اور الزام لگایا کہ مرکزی حکومت نے بینک آف بروڈہ کے خسارے پر پردہ پوشی کے لئے ایک صحت مند بینک کو ختم کرنے کا منصوبہ مرتب کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وجئے بینک کا قیام کرناٹک کے منگلور میں 1931کے دوران کیا گیا تھا۔اس وقت سے اب تک وجئے بینک دیہی خدمات سے شروعات کرتے ہوئے قومی سطح تک پہنچی ہے، آج ملک بھر میں اس بینک کی 2700 سے زائد شاخیں ہیں۔ زراعت کو اپنا پیشہ بنانے والے طبقے کی بھرپور مدد کرنے میں وجئے بینک کا رول کلیدی اہمیت کا حامل رہا ہے۔اچانک مرکزی حکومت کی طرف سے وجئے بینک اور دینا بینک کو بینک آف بروڈہ میں ضم کرنے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے وہ غلط ہے۔
انہوں نے کہاکہ کرناٹک کے اراکین پارلیمان کو مرکزی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف آواز اٹھانا چاہئے۔ مرکزپر یہ دباؤ ڈالنا ضروری ہے کہ کرناٹک کے سبھی اراکین پارلیمان پارٹی امتیازات سے بالا تر ہوکر مرکزی حکومت کے فیصلے کے خلاف احتجاج کریں۔ مرکزی حکومت کی طرف سے اس طرح کا فیصلہ کہ جب کیا گیا اس پر اراکین پارلیمان کی خاموشی کو انہوں نے افسوسناک قرار دیا۔ ایوان ڈیسوزا نے کہاکہ وجئے بینک معاشی طور پر مستحکم اور منافع بخش بینک رہی ہے۔مرکزی حکومت ایک ایسے بینک میں اسے ضم کرنے پر تلی ہوئی ہے جو خسارے میں چل رہی ہے۔ بینک آف بروڈہ سے نیرو مودی نے جو گیارہ ہزار کروڑ روپے لوٹے ہیں اس خسارے کی بھرپائی کے لئے مرکزی حکومت وجئے بینک جیسے ادارے کو نشانہ بنانا چاہتی ہے یہ درست نہیں۔